پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی اسمبلی میں پمز ہسپتال کے وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی المناک ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے ذمہ داروں کا بلاامتیاز تعین کیا جائے۔ سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 26 اگست کو پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ یہ ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہے۔ ان ماؤں کے جذبات کی ترجمانی شاید یہ ایوان بھی مکمل طور پر نہیں کر سکتا جو نو ماہ تک اپنے بچوں کو اپنے وجود میں پالتی ہیں، زچگی کی تکلیف سے گزرتی ہیں اور جب اپنے بچوں کو گود میں لینے، سینے سے لگانے اور ان کے ماتھے چومنے کا وقت آتا ہے تو انہیں اپنے جگر گوشوں کی جلی ہوئی میتیں حوالے کر دی جاتی ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سانحے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس کی ذمہ داری تھی کہ فائر فائٹنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہوتا؟ کس کی ذمہ داری تھی کہ بچوں کے وارڈ میں اسپرنکلرز موجود اور فعال ہوتے؟ کس کی ذمہ داری تھی کہ فائر ایگزٹ اور ایمرجنسی دروازے کھلے اور قابل استعمال ہوتے؟ اور کس کی ذمہ داری تھی کہ یہ یقینی بنایا جاتا کہ ہسپتال میں زیر علاج معصوم بچے محفوظ ہیں؟سحر کامران نے کہا کہ اگر ہسپتال میں بنیادی حفاظتی انتظامات ہی مؤثر نہ ہوں تو محض حادثہ قرار دے کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامی ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جلی ہوئی میتوں کی شناخت کے حوالے سے بھی متاثرہ خاندانوں کو مکمل اعتماد میں لیا جانا چاہیے اور شناخت کا عمل شفاف اور قابل اعتماد ہونا چاہیے۔ کسی ماں کو اپنے بچے کے بارے میں غیر یقینی کیفیت میں نہیں رکھا جا سکتا۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ 2024 میں بھی ایک ہسپتال میں بچوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، لیکن آج بھی ہم بنیادی فائر سیفٹی اور ہسپتالوں کی حفاظتی تیاری کے وہی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان واقعات سے سبق نہ سیکھنا ہمارے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔سحر کامران نے وزیراعظم کی عدم موجودگی پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے قومی سانحے کے موقع پر وزیراعظم کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاملے پر کالنگ اٹینشن نوٹس بھی جمع کرایا تھا اور کم از کم آج کے Order of the Day میں اس سنگین معاملے کی عکاسی ہونی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ جس دن یہ سانحہ پیش آیا، وزیراعظم نے کنونشن سینٹر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں شرکت کی، لیکن صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر غم سے نڈھال ان ماؤں کے سر پر ہاتھ رکھنے اور ان کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے نہیں پہنچے۔ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات ہمیں مصیبت زدہ انسان کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس کے دکھ میں شریک ہونے کا درس دیتی ہیں۔سحر کامران نے کہا کہ تعزیتی سرگرمیوں، ظاہری انتظامات اور وقتی اقدامات سے اصل سوال ختم نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ چودہ معصوم بچے کیوں جاں بحق ہوئے، چودہ گھروں کے چراغ کیوں بجھے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ صرف ایک انکوائری کمیٹی بنا دینا کافی نہیں۔ ایسی انکوائری کی شفافیت اور غیر جانب داری پر سوال اٹھیں گے اگر وہ افراد اپنے عہدوں پر برقرار رہیں جن کی انتظامی ذمہ داریوں کا تعین تحقیقات کا حصہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے کردار اور انتظامی ذمہ داریوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور اگر غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ متعلقہ وزیر اور پمز کی انتظامیہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدوں سے الگ ہوں تاکہ غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔
سحر کامران نے کہا کہ جب ارکان پارلیمنٹ سوالات اٹھاتے ہیں تو اکثر ایک تیار شدہ بیان پڑھ کر کارروائی آگے بڑھا دی جاتی ہے اور ضمنی سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کے بعد ایک افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے، لیکن عملی اقدامات اور مستقل اصلاحات نظر نہیں آتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے باقاعدگی سے ہسپتال کا دورہ کرتے، تمام وارڈز کا معائنہ کرتے اور حفاظتی نظام کا جائزہ لیتے تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ انہوں نے 30 جون کو پمز میں ایک مریض کی جانب سے مشینوں اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم کے غیر فعال ہونے کی نشاندہی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس وقت بھی معاملہ متعلقہ حکام اور وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا تھا، مگر مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔سحر کامران نے کہا کہ اگر پمز کو گزشتہ برسوں میں خطیر سرکاری فنڈز فراہم کیے گئے ہیں تو ان فنڈز کے استعمال کا مکمل اور آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے، خصوصاً فائر سیفٹی، ایمرجنسی سسٹم، طبی آلات، بجلی اور دیگر بنیادی حفاظتی سہولیات پر ہونے والے اخراجات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں باقاعدہ فائر ڈرلز اور سیفٹی آڈٹ کا نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ جیسے اہم ادارے میں بھی انہیں باقاعدہ فائر ڈرل ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی، جو ہمارے مجموعی حفاظتی کلچر پر سوال اٹھاتا ہے۔
سحر کامران نے کہا کہ یہ بچے کسی وزیر یا وزیراعظم کے بچے نہیں تھے، لیکن وہ پاکستان کے بچے تھے۔ ان کی زندگیاں بھی اتنی ہی قیمتی تھیں جتنی کسی بااثر خاندان کے بچے کی زندگی۔انہوں نے کہا کہ اس بحث کو کسی اور سمت موڑنے کے بجائے اصل حقائق کا جائزہ لیا جائے۔ یہ وقت بیانات دینے کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا تعین کرنے کا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل طور پر آزاد، شفاف اور غیر جانب دار ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، غفلت ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی نظام کا فوری جامع آڈٹ کرایا جائے۔سحر کامران نے کہا کہ چودہ معصوم جانیں واپس نہیں آ سکتیں، لیکن ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خاندانوں کو صرف تعزیت نہیں بلکہ انصاف بھی فراہم کرے اور مستقبل میں کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے روکے۔
