Baaghi TV

صدر مملکت کابھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کیےجانےپر گہری تشویش کا اظہار

larkaana

+صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کیے جانے اور انہیں لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں وارانسی کی ایک ہزار سال قدیم مسجد گنج شہیداں بھی شامل ہے۔

ہفتہ کو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے پیغام میں صدر زرداری نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات بند کرے، انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ملک میں طویل المدتی بے چینی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں صدر زرداری نے ان اقدامات کو فوراً روکنے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور مشترکہ ثقافتی و تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق، ناردرن ریلوے کے وارانسی ڈویژن نے کاشی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع اس تاریخی مسجد کو ’20 جون‘ تک ہٹانے کا متنازع نوٹس جاری کر رکھا ہے،دوسری جانب مسجد انتظامیہ ’انجمن انتظامیہ مساجد وارانسی‘ نے ریلوے کے اس اقدام پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نوٹس کو یکسر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

انجمن کے عہدیداران نے وارانسی کے ضلعی مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے ملاقات کر کے ایک احتجاجی یادداشت پیش کی ہے، جس میں ریلوے حکام کیجانب سے پیش کردہ دستاویزا ت اور دعوؤں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے انتظامیہ نے ضلعی حکام سے درخواست کی ہے کہ جب تک معاملے کا مکمل جائزہ نہیں لے لیا جاتا، تب تک ریلوے کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انجمن انتظامیہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس ایم یاسین نے بتایا کہ 13 جون کو مسجد کے باہر چسپاں کیے گئے نوٹس پر نہ تو کوئی تاریخ درج ہے، نہ کسی کے دستخط ہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری مہر موجود ہے، لہٰذا یہ نوٹس قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا اور انجمن اسے مسترد کرتی ہے ضلعی انتظامیہ کو دی گئی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ مسجد گنج شہیداں وارانسی میونسپل کارپوریشن میں عمارت نمبر ‘A-36/4’ کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا ریلوے کی زمین سے کوئی تعلق نہیں، اس سلسلے میں عدالت میں جمع کر ائے گئے ایک جوابی حلف نامے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے قدیم نقشوں میں مسجد کا وجود واضح طور پر درج ہے، جبکہ کاشی ریلوے اسٹیشن تو اس کے بہت بعد میں قائم کیا گیا تھا،مسجد کی تاریخی حیثیت اور قدامت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی انتظامی فیصلے سے قبل مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

More posts