امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ اور اس کے بعد ہونے والے عبوری معاہدے کو چین اپنی سفارتی کامیابیوں اور عالمی کردار میں اضافے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے-
سی این این میں شائع رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے بعد چین خود کو ایک ایسے عالمی فریق کے طور پر پیش کر رہا ہے جس نے تنازع کے دوران سفارتی توازن برقرار رکھا، توانائی کے بحران سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حامی کردار کو اجاگر کیا اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ اور اس کے بعد ہونے والے عبوری معاہدے کو چین اپنی سفارتی کامیابیوں اور عالمی کردار میں اضافے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ نے اس تنازع کے دوران ایک محتاط حکمت عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں وہ ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جو جنگ کے بجائے سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کیجانب سے ایران پر حملوں کا آغاز ہوا تو چین کو خدشہ تھا کہ تہران میں حکومت کو بھی اسی طرح نقصان پہنچ سکتا ہے جیسے ماضی میں بعض دیگر اتحادی حکومتوں کو پہنچا، تاہم کئی ماہ بعد صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں عبوری معاہدہ طے پایا، جبکہ ایرانی حکومت اپنی جگہ برقرار ہے۔ وزارت خارجہ نے امریکا اور ایران کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے چین نے اپریل میں صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ 4 نکاتی امن تجاویز کا بھی حوالہ دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی جی سیون اجلاس کے دوران چین اور صدر شی جن پنگ کےکردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نےغیر جانبدار رہتے ہوئے تنازع کو حل کرنے میں مدد کی،ایران جنگ کے دوران توانائی کے بحران کے باوجود چین کو نسبتاً کم نقصان اٹھانا پڑا، جس کی بڑی وجہ اس کے بڑے تیل ذخائر، متبادل توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کی پا لیسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکا کی فوجی طاقت کے استعمال کی حدود کو نمایاں کیا ہے، بعض تجزیہ کار اسے امریکا کے لیے ’سویز لمحہ‘ قرار دے رہے ہیں، جس سے مراد عالمی طاقت کے اثر و رسوخ میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے،تاہم چینی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا کی کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ چین خود بخود عالمی نظام کا نیا سربراہ بن جائے گا بلکہ چین کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ صرف تنقید کے بجائے عملی سفارتی حل، توانائی کے استحکام اور علاقائی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
