برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران فائر فائٹرز یونین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو قومی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے اس موسمی شدت سے فائر سروسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
ملک بھر میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہےخشک سالی اور گرمی سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہواہے،فائر فائٹرز عملے اور وسائل پر کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے،ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔
برطانیہ کے کچھ حصے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جبکہ فائر فائٹرز کی یونین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو جنگل کی آگ کے باعث "قومی ہنگامی صورتحال” کا سامنا ہے۔
کچھ علاقے موسمِ گرما کی پانچویں ہیٹ ویو (شدید گرمی کی لہر) کی زد میں ہیں، کیونکہ محکمہ موسمیات نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں اب تک کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے گرم گرمیاں متوقع ہیں محکمہ موسمیات کی جانب سے لندن اور جنوب مشرقی، ایسٹ مڈلینڈز، ایسٹ آف انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ساؤتھ یارکشائر کے کچھ حصوں کے لیے جمعرات کو صبح 9 بجے سے نصف شب تک "شدید گرمی” کی نایاب ‘ایمبر’ (amber) وارننگ جاری کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جمعرات کو اس کے بڑھ کر 37 یا 38 ڈگری سینٹی گریڈ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے-
میٹ آفس کے چیف پیش گوئی کرنے والے کرس بلمر نے کہا: جبکہ چوٹی کی گرمی حالیہ ہیٹ ویوز کے مقابلے میں زیادہ قلیل مدتی ہوگی، جمعرات کو درجہ حرارت 30 کی دہائی کے وسط تک بڑھنے سے کچھ لوگوں کے لیے اثرات کا امکان ہے، اسی لیے میٹ آفس کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
