ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کے باعث نرسری میں داخلہ محدود تھا،ریسکیو آپریشن کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر نے نومولود کی جان بچائی،ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات رونما ہوئے جس کے باعث نرسری میں داخلہ محدود تھاپمزاسپتال میں فائر سسٹم تسلی بخش حالت میں موجود تھا،ریسکیو آپریشن کے دوران 24 آکسیجن سلنڈرز موجود تھے ،ریسکیو آپریشن کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی،کوئی بھی قصوروار پایا گیا تو سخت سزا دی جائے گی۔
دوسری جانب کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کر دی۔
سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے رپورٹ میں کہا گیا کہ پمز اسپتال کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آگ کی اطلاع 26 اگست کو صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں 6 منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں، ابتدائی طور پر نرسری سے شدید دھواں اٹھنے کی اطلاع دی گئی۔
سی ڈی اے رپورٹ میں آتشزدگی کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈ قرار دی گئی ہے تاہم حتمی وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امدادی کارروائیوں میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین اور ایک واٹر باؤزر استعمال کیا گیا جبکہ کیپٹل ایمرجنسی سروس کے 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران نے آپریشن میں حصہ لیا۔
سی ڈی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نرسری میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے، ایمرجنسی ایگزٹس اور خارجی راستے مستقل طور پر بند تھے یا ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی تھیں،اسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر فائٹنگ عملے کی ابتدائی کارروائی میں رکاو ٹ پیدا کی جبکہ جائے وقوع پر مناسب کراؤڈ مینجمنٹ (ہجوم کو منظم طریقے سے کنٹرول کرنا) بھی موجود نہیں تھی۔
