میر رضا ہلاکت کیس کی تحقیقات میں پولیس تفتیشی ٹیم کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے جس میں پولیس نے متوفی میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل فون سم حاصل کر لی ہے-
تفتیشی حکام کے مطابق، بائیو میٹرک اور تمام ضروری دستاویزی کارروائی کی تکمیل کے بعد یہ سم میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کر کے جاری کر دی گئی ہےاس اقدام کا بنیادی مقصد میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ چیٹ کا بیک اپ ڈیٹا برآمد کر کے تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پولیس کو میر رضا کے قریبی دوستوں کو بھیجے گئے کچھ واٹس ایپ پیغام بھی ملے ہیں، جن میں اس نے اپنے شدید معاشی اور گھریلو حالات کا تذکرہ کیا تھااس کے علاوہ پولیس نے جائے وقوع کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت کے سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ ساتھ قریبی مسجد کے پیش امام، مؤذن اور کمیٹی کے ارکان کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی موت سے قبل آخری بارہ گھنٹوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک تفصیلی ٹائم لائن بھی تیار کی ہےجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا آخری وقت تک سرمایہ کاری اور قرضے کے حصول کے لیے کوشاں تھا میر رضا نے 27 جولائی کی شام پونے چھ بجے کے قریب شارع فیصل پر ایک شخص سے ملاقات کر کے 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بات کی، تاہم رات سوا آٹھ بجے کے قریب اس شخص نے فون کر کے سرمایہ کاری سے معذرت کر لی۔
اسی دوران رات سات بجے کے قریب بینک نے میر رضا کو بتایا کہ اس کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے کا قرض منظور ہو گیا ہے بعد ازاں، ٹیپو سلطان روڈ پر مزید ملاقاتوں اور رات گئے ایک کباب ہاؤس میں دوست کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد بھی میر رضا کی جانب سے مختلف لوگوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔
واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد کے علاقے سے پراسرار طور پر لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے برآمد ہوئی تھی اگرچہ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اہل خانہ کے اصرار اور عدالتی حکم پر کی جا نے والی قبر کشائی و دوسرے پوسٹ مارٹم میں جسم پر تشدد اور چوٹوں کے واضح نشانات ملے، جس کے بعد کیس کا رخ بدل گیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ابھی تک مبینہ قتل کے کچھ مثبت شواہد اور واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد نہیں ہو سکا ہے، جبکہ ضائع ہونے والے ثبوتوں اور ملوث اہلکاروں کا تعین کرنا پولیس تفتیش کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
