امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کریں گے-
ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان بہتر تعلقات کو مثبت قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے کسی مخصوص وقت کے پابند نہیں اور ان کے فیصلے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
امریکی صدر نے کہا کہ میں کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور جب تک ہمارے (امریکا) پاس ایک سمجھدار صدر ہے وہ ٹھیک رہیں گے ہاں اگر کوئی بیوقوف نے صدارت سنبھال لی تو پھر کم جونگ بھی ویسے اچھے نہیں رہیں گے،یہ حقیقت کہ میری ان کے ساتھ بنتی ہے اور یہ اچھی بات ہے بری نہیں۔
اس کے بعد انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کم جونگ اُن کے پاس 57 ’بہت طاقتور‘ جوہری ہتھیار ہیں، شمالی کوریا کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں صدر ہوتا تو میں ایسا نہیں ہونے دیتا لیکن اب اس کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں۔
ٹرمپ کے کم جونگ اُن سے دوبارہ رابطے کے اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ان مشقوں سے شمالی کوریا کو ایک مکمل طور پر نامناسب اور جارحانہ پیغام ملتا ہے۔ ان کے مطابق جب سے وہ امریکا کے صدر ہیں اور شمالی کوریا نے ان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار نہیں کیا اور احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شمالی کوریا کے لیے طویل عرصے سے حساس معاملہ رہی ہیں۔ پیانگ یانگ (شمالی کوریا کا دارالخلافہ) انہیں حملے کی تیاری قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن اور سیول (جنوبی کوریا) کا مؤقف ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان مشقوں کو محدود کرنے کے امریکی فیصلے نے جنوبی کوریا میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 57 جوہری ہتھیاروں کا عدد بتانا خاصا غیر معمولی ہے کیونکہ شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کی درست تعداد طویل عرصے سے ایک اندازہ ہی رہی ہے۔
جون 2026 میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اندازہ لگایا تھا کہ شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر تقریباً 60 جوہری وارہیڈز تیار کر رکھے ہیں جبکہ اس کے پاس کم از کم مزید 30 جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی فِسائل مواد موجود ہے،اس لیے ٹرمپ کا 57 کا عدد ماہرین کے حالیہ اندازوں سے بہت دور نہیں تاہم اسے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی حتمی یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکا کی دشمنانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا اور اس کے اتحادی اس وقت بھی شمالی کوریا کے خلاف بھرپور فوجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،اپنے بیان میں کم جونگ اُن کی بہن نے شمالی کوریا کے رہنما اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے دل میں کم جونگ اُن کے لیے ذاتی طور پر اچھی یاد یں اور مثبت جذبات موجود ہیں۔
