امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہ اجلاس سے واپسی کے دوران ممکنہ ایرانی حملے کے خطرے کے باعث انہیں خفیہ طور پر ایک طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا، ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹ سروس اور امریکی فوج نے انہیں مختلف پرواز اور طیارہ استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر انہوں نے عمل کیا۔
یہ انکشاف اس واقعے کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جب 8 جولائی کو ٹرمپ کو انقرہ ایئرپورٹ پر کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر طیارے سے نکالے گئے اور ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کر دیے گئے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام نے ایک قابلِ اعتبار ایرانی خطرے کا سراغ لگایا تھا جس میں مبینہ طور پر ٹرمپ کے طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کا امکان موجود تھا نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو یہ اطلاع بھی ملی تھی کہ نیٹو اجلاس کے قریب ایک شخص کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خطرے کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ انہیں مسلسل دھمکیاں ملتی رہتی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے لیے ”نمبر ون ہدف“ تھے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ترکیہ پہنچنے کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سوار ہوئے تھے، لیکن واپسی پر انہوں نے پرانے ایئر فورس ون میں سفر کرنے کا اعلان کیا تھا،8 جولائی کو انہیں اسی طیارے میں سوار ہوتے دکھایا گیا، مگر واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وہ بعد میں طیارے کے دوسری جانب کھڑے کیے گئے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر باہر نکلے اور ایک C-32A فوجی طیارے میں منتقل ہو گئے، یہ طیارہ بوئنگ 757 کا تبدیل شدہ ماڈل ہے اور عموماً نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی الگ سے اسی فوجی طیارے میں سوار ہوئے تاکہ معمول کی پرواز کا تاثر برقرار رہے ادھر صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو ایئر فورس ون پر ہی رکھا گیا اور مبینہ طور پر طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی،اس دوران طیارے میں موجود صحافیوں کو علم نہیں تھا کہ صدر اس پر موجود نہیں ہیں وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق میڈیا کے ارکان نے کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کو غیر معمولی قرار دیا،اصل ایئر فورس ون نے ”AF1“ کال سائن برقرار رکھا جبکہ صدر کو لے جانے والے C-32A نے ”Reach 18“ کال سائن استعمال کیا تاکہ خفیہ منتقلی کا منصوبہ ظاہر نہ ہو۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر کے کابینہ کے بعض ارکان، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل تھے، اصل طیارے پر موجود رہے،بعد ازاں ٹرمپ برطانیہ پہنچے جہاں انہوں نے دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں سفر کیا اور پھر قطر کی جانب سے فراہم کردہ نئے صدارتی طیارے کے ذریعے واشنگٹن واپس روانہ ہوئے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے علاقائی ڈائریکٹر جوز زمورا نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ صدر کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالا جائے ان کے مطابق صحافیوں کو قابلِ اعتبار سیکیورٹی خطرات سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی حفاظت کے بارے میں باخبر فیصلہ کر سکیں۔
