امریکی سینیٹر اور سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری جنگ پر دیے گئے حالیہ خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-
اپنے ایک ویڈیو بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ جنگ امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ہے، فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور عوامی مسائل جیسے مہنگائی کو نظرانداز کر رہی ہے صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے اور جس سے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، ٹرمپ کی ایران جنگ کی پالیسی نے روزمرہ کی زندگی میں قیمتوں کے بڑھنے جیسے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان معاملات پر توجہ دینے میں ناکام رہا ہے، جن سے امریکی عوام حقیقی طور پر متاثر ہو رہے ہیں-
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ شاید اپنی تقریر میں ’فتح‘ کا دعویٰ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، نہ کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، عوام کی نگاہیں اس جنگ کے حقیقی اثرات پر ہیں، خاص طور پر جب تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ ہے اور اقتصادی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ملکی وقت میں ایک خصوصی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔
