ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔
سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔
