Baaghi TV

امریکہ ایران کشیدگی میں کمی ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

sa

امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئیں-

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے برینٹ خام تیل 67 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 63 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجوہات میں عالمی معاشی سست روی کے خدشات، تیل کی طلب میں کمی اور بڑے پیداواری ممالک کی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالی پالیسیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے تیل کی طلب متاثر ہو رہی ہے اس کے علاوہ چین میں معاشی بحالی کی رفتار توقع سے کم رہنے نے بھی تیل کی عالمی طلب پر دباؤ ڈالا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر وہ نیوکلیئر معاہدے پر نہیں آئے گا یا مظاہرین کو قتل روکنے میں ناکام رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ ہفتے کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے، اس سے چند گھنٹے قبل تہران کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کے انتظامات جاری ہیں۔

ایسٹرن مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے انقلابی گارڈز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں لائیو فائر مشقیں نہ کرنے کی خبریں کشیدگی میں کمی کی علامت ہیں ان کے مطابق اس سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم کم ہوا اور منافع لینے کی سرگرمی بڑھی

دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے مستقبل میں پیداوار سے متعلق واضح حکمت عملی سامنے نہ آنے کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ اگر عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ترقی پذیر ممالک پر دوہرا ہو سکتا ہے، جہاں ایک جانب درآمدی بل میں کمی سے کچھ ریلیف ملے گا، وہیں دوسری جانب توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

More posts