Baaghi TV

آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران خلیج میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں-

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان میں تیل کے ٹینکر، کارگو اور دیگر کمرشل جہاز شامل ہیں یہ حملے مختلف ملکوں کے جھنڈوں والے جہازوں پر ہوئے جن میں تھائی لینڈ، مالٹا، مارشل آئلینڈز، جاپان اور پاناما کے جہاز شامل ہیں، جنگ کے پہلے دن، یعنی 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے خلیج فارس میں نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ایران کے جوابی حملوں میں متعدد غیر ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل تقریباً رک گئی۔

اس دوران ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ابتدائی دنوں میں ہونے والے ان حملوں نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کیا اور عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔

امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز کا ایم کے ڈی وی وائے او ایم تیل کا ٹینکر عمان کے ساحل کے نزدیک پروجیکٹائل لگنے سے حملے کا شکار ہوا جس میں ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا اسی دن جبرالٹرز کے پرچم والا ہرکولیس اسٹار اورپلاؤ کے پرچم والا سکائی لائٹ بھی حملے کا نشانہ بنے اور عملے کو نکالنا پڑا۔

2 مارچ کو امریکی جھنڈے والا اسٹینا امپریکٹو بحرین میں حملے سے آگ پکڑ گیا اور عملے کو ایمرجنسی طور پر نکالا گیا اسی طرح 3 مارچ کو مارشل آئی لینڈز کے لبرا ٹریڈر اور پاناما کے گولڈ اوک نے متحدہ عرب امارات کے فجیرا کے قریب معمولی نقصان اٹھایا4 مارچ کو مالٹا کا سفین پریسٹیج ٹینکر بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ 5 مارچ کو عراق کے خور ال زبیر بندرگاہ کے قریب سونانگول نیمبی کو دھماکے سے نقصان پہنچا اسی طرح 6 اور 7 مارچ کو مزید حملے ہوئے، جن میں ایک ٹگ بوٹ اور سعودی عرب کے شمال میں ممکنہ ڈرون حملہ شامل ہیں۔

ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

11 مارچ کو آبنائے ہرمز میں کئی جہاز حملے کا شکار ہوئے، جن میں تھائی لینڈ کا میری ناری، جاپان کا ون میجسٹی، مارشل آئی لینڈز کا اسٹارگونیتھ اور تیل کے ٹینکر سیف سی وشنو اورزیفروس شامل ہیں 12 مارچ کو عراقی سمندری حدود میں الفاو بندرگاہ کے قریب دو ٹینکروں پر حملہ ہوا جس میں عملے کا رکن ہلاک ہوا جبکہ 25 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔ بحری حکام کے مطابق خلیجی پانیوں میں مزید چار جہاز بھی پروجیکٹائل حملوں کا شکار ہوئے۔

ان حملوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی مصنوعا ت گزرتی ہیں ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اس تنگ پانی سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل اور ایل این جی کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی اور بین الاقوامی تجارت میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام طویل ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

More posts