ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوائی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور 2026ء کی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس تین مرحلے پر مشتمل منصوبے میں اسرائیل سمیت تمام فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد شامل ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر لگی امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری تہران قبول کرے گا۔
دوسرے مرحلے کے تحت ایران کو ایک مخصوص مدت کے بعد 3.6 فیصد تک یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ ”زیرو اسٹوریج“ اصول کے تحت ہوگا جس کا مطلب ہے کہ افزودہ شدہ مواد کا ذخیرہ نہیں کیا جائے گااس مرحلے میں ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے یا نقصان پہنچانے کی کسی بھی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔
تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملوں سے گریز کریں گے اور بدلے میں ایران بھی کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ پابندیوں میں نرمی کے طور پر ایران کے منجمد فنڈز کو مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔
آخری اور تیسرے مرحلے میں تہران نے اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات اور پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک جامع علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے توسط سے امریکا کو بھیجی گئی ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ان تجاویز کو "ناکافی” یا "ناقابل قبول” قرار دیا ہےپاکستان اس معاملے میں "بیک ڈور ڈپلومیسی” کے ذریعے سرگرم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے،یہ نئی پیش رفت اپریل 2026ء میں قائم ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا تھا-
