امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں،جبکہ انہوں نے مشرق وسطی کا نقشہ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے،کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں، وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یور ینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔
ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہےاس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے مشرق وسطی کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ نقشے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ لکھا، جس کے ساتھ سوالیہ نشان شامل تھا، جس نے مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا،نقشے پر امریکی صدر نے ایران کو امریکی پرچم میں دکھایا ہے،یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اور اسے علامتی سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
