عیدالاضحیٰ آتی ہے تو گلیاں قربانی کے جانوروں سے آباد ہو جاتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا شور سنائی دیتا ہے، مگر ایک سوال ہر حساس دل سے ٹکراتا ہے: کیا عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، یا اس کے پس منظر میں کوئی ایسا عظیم سبق پوشیدہ ہے جسے ہم نے رسموں کی دھند میں کہیں کھو دیا ہے؟-
اگر ہم اس عید کے اصل مرکز کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک بوڑھا باپ نظر آتا ہے، جس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایک فرمانبردار بیٹا، جس کی جوانی اطاعت اور تسلیم و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ محض قربانی کی داستان نہیں، یہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو ہے جس نے قیامت تک کے انسانوں کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھا دیا۔
قرآن مجید میں وہ منظر کتنا ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:
“اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟”
یہ الفاظ محض ایک حکم سنانے کے نہیں، بلکہ ایک باپ کے شفقت بھرے اندازِ تربیت کے عکاس ہیں حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو حکم صادر کر دیتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو اعتماد دیا، اس کی رائے پوچھی، اسے اس عظیم امتحان کا شریک بنایا، گویا اسلام ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اولاد سے مکالمہ کیا جائے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کی جائے، صرف حکم چلانا کافی نہیں ہوتا، محبت اور اعتماد کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔
پھر بیٹے کا جواب تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب بن جاتا ہے:
“ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
کیا آج کے دور میں یہ جملہ صرف پڑھنے کے لیے رہ گیا ہے؟ ایک طرف والدین ہیں جو اولاد کو صرف دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اولاد ہے جو والدین کی نصیحت کو بوجھ سمجھتی ہے گھر ایک چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں حضر ت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد گھر کے اندر باپ اور بیٹے کے رشتے سے شروع ہوتی ہے۔
عیدالاضحیٰ دراصل جانور کی قربانی سے پہلے اپنی انا، خواہشات، ضد، غصے اور نفس کی قربانی کا نام ہے حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، انہوں نے اپنے دل کے سب سے محبوب رشتے کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا عزم کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنے خواب—سب کو اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں کر دیا تھا۔
آج مسلمان اگر اس عید کا اصل فلسفہ سمجھنا چاہیں تو انہیں اس مکالمے کو اپنے گھروں میں زندہ کرنا ہوگا باپ صرف حکم دینے والا نہ ہو بلکہ رہنمائی اور محبت کا پیکر بنے، اور بیٹا صرف آزادی کا طلبگار نہ ہو بلکہ ادب، احترام اور اعتماد کا استعارہ بنے اگر گھروں میں مکالمہ، محبت اور اطاعت کی یہ فضا پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے عیدالاضحیٰ کو گوشت تقسیم کرنے اور رسم ادا کرنے تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت؛ اس تک صرف دل کا تقویٰ پہنچتا ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے “اسماعیل” کو اللہ کے سپرد کرے اور اپنے نفس کے “بت” کو ذبح کر دے
عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت صرف قربانی میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ اطاعت میں ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جھلکتا ہے یہی وہ سبق ہے جسے اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں زندہ کر لیں تو ان کے گھر بھی امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور معاشرہ بھی محبت، احترام اور ایمان کی خوشبو سے مہک اٹھے گا کیونکہ عید صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں، اعتماد، اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے سب سے محبوب کو قربان کرنے کے جذبے کا نام ہے۔
