Baaghi TV

نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

mango

نیپال نےبھارتی آموں کی امپورٹ پر اپنے ملک میں پابندی عائد کر دی ہے جبکہ نیپال حکومت کے اس اچانک فیصلے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں پھلوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارتی آموں میں کیڑے مار ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائے جانے اور سرحدی علاقوں میں ضروری ٹیسٹنگ یعنی کوارنٹائن کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے اس کے علاوہ اس فیصلے کے پیچھے ایک اور مقصد مقامی سطح پر اگائے جانے والے پھلوں کو فروغ دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

نیپالی نیوز ویب سائٹ ’دی رائسنگ نیپال‘ کے مطابق اس پابندی کے بعد نیپال کے شہر جنک پور دھام کے بازاروں میں مقامی آم تو نظر آ رہے ہیں، لیکن پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار اور سپلائی کو لے کر شدید پریشان ہیں مقامی تاجروں کا ماننا ہے کہ ملکی پیداوار کو بڑھاوا دینا اچھی بات ہے، لیکن بغیر کسی طویل مدتی منصوبے کے اچانک امپورٹ روکنے سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

نیپال میں آموں کی اپنی پیداوار صرف دو مہینے ہی چلتی ہے،اس لیے ملک میں آم کی بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے آنے والا مال بہت ضروری سمجھا جاتا ہے جنک پور دھام کے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھوبنیشور پُربے کے مطابق گرمیوں کے موسم میں آم کی مانگ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے مارکیٹ میں مال کی شدید کمی ہو سکتی ہےسپتری، سیراہا، مہوتری، دھنوشا اور سرلاہی جیسے اضلاع سے روزانہ 50 ٹن سے زیادہ آم جنک پور دھام پہنچ رہا ہے، لیکن صرف مقامی پیداوار سے پورے بازار کی مانگ کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا،امپورٹ پر پوری طرح پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو سرحدوں پر کوارنٹائن سسٹم کو مضبوط کرنا چاہیے اور بھارتی پھلوں کو کوالٹی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہیے اگر آموں پر یہ پابندی زیادہ عرصے تک برقرار رہی تو عام گاہکوں کو دگنی قیمتیں چکانی ہوں گی اور کاروباریوں کو بھی بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

دوسری طرف، بھارت کو صرف نیپال ہی سے نہیں بلکہ جاپان سے بھی دھچکا لگا ہے جاپان حکومت نے کیڑوں پر قابو پانے کے ناقص انتظامات اور ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ کےمعیار پر پورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے 25 مارچ 2026 کےبعد جاری ہونے والےسرٹیفکیٹ والے بھارتی آموں کی کھیپ پر روک لگا دی ہے جاپان نے یہ سخت قدم تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد اٹھایا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے ضلع امروہہ کے وسیع باغات سے ہر سال بڑی مقدار میں آم خلیجی ممالک، امریکہ، جاپان اور یورپ بھیجے جاتے ہیں-

More posts