برطانیہ کے شہر ایڈنبرا میں ایک کمزور اور بے سہارا خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے شخص کو عدالت نے چار سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ خاتون کی جان اور عزت بروقت مداخلت کرنے والے سکیورٹی گارڈ کی بہادری سے محفوظ رہی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 34 سالہ اولیکساندر دوپک نے گزشتہ سال نومبر میں ایڈنبرا کے نیو ٹاؤن علاقے کی ایک تاریک گلی میں خاتون پر حملہ کیا۔ ملزم نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم قریب موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے صورتحال بھانپتے ہوئے فوری مداخلت کی۔
رپورٹس کے مطابق سکیورٹی گارڈ نے شور مچا کر ملزم کو روکنے کی کوشش کی، جس پر وہ موقع سے فرار ہو گیا۔ بعد ازاں پولیس نے تحقیقات کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔ ملزم نے عدالت میں اقدامِ زیادتی کے جرم کا اعتراف بھی کیا۔
ایڈنبرا کی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جج لیڈی ڈرمنڈ نے کہا کہ اگر سکیورٹی گارڈ بروقت مداخلت نہ کرتا تو ملزم اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو روکنے والی واحد چیز سکیورٹی گارڈ کی ہوشیاری، ذمہ داری اور انسان دوستی تھی۔
جج نے اپنے ریمارکس میں سکیورٹی گارڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے متاثرہ خاتون کی حفاظت کے لیے غیر معمولی جرات اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس پر وہ بھرپور ستائش کا مستحق ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اولیکساندر دوپک یوکرین مہاجرین اسکیم کے تحت برطانیہ آیا تھا۔ جرم ثابت ہونے اور اعترافِ جرم کے بعد عدالت نے اسے چار سال قید کی سزا سنائی۔
پولیس نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ہر ممکن قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ایسے جرائم کی بروقت روک تھام ممکن ہو سکے۔
ایڈنبرا میں خاتون سے زیادتی کی کوشش ناکام، سکیورٹی گارڈ کی بروقت مداخلت سے ملزم گرفتار
