Baaghi TV

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ طے

sa

سعودی عرب اور امریکا نے پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مہارت اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی تاریخی اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل ہے اور گزشتہ برس ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکا کے دوران طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دیتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے، یہ معاہدہ جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات سے ہم آہنگ مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

More posts