Baaghi TV

حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

israel

اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے حماس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی تشویشناک رپورٹ کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو منصب کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

یہ سیاسی بحران ستمبر 2026 میں اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی اس رپورٹ کے بعد پیدا ہوا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا،اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (UAE) کے صدر محمد بن زاید ال نہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے براہِ راست بات کی تھی اور انہیں مطلع کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وارننگ کے بعد اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی ‘شن بیت’ کے سربراہ رونن بار نے بھی 15 ستمبر 2023 کو نیتن یاہو کو اس حوا لے سے بریفنگ دی تھی، اس کے ساتھ ہی مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو کسی غیر معمولی اور خوفناک آپریشن کے بار ے میں خبردار کیا تھا-

سابق وزیراعظم اور انتخابات میں امیدوار نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کو ہونے والے نقصان کا ’’بذات خود اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایک منٹ کے لیے بھی‘‘ اپنے عہدے پر براجمان نہیں رہنا چاہیے۔

ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوارنے ایک سابق فلسطینی عہدیدار کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک ’’خوفناک آپریشن‘‘ کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’زلزلہ‘‘ قرار دیا تھا سابق فلسطینی عہدیدار نے یہ اطلاع ایک اماراتی مشیر تک پہنچائی، جس نے اسے متحدہ عرب امارات کے صدر تک پہنچایا اس کے بعد اماراتی صدر نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔

متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے ‘ابراہام اکارڈ’ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اخبار نے زیادہ تر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کا پُرسکون انداز میں جواب دیا، نیتن یاہو نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ اسرائیل کی توجہ غزہ کے بجائے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر ہے۔

اس نئی رپورٹ کے سامنے آتے ہی اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہوں نے ان اہم ترین وارننگز کو نظر انداز کیا۔

نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گاڈی آئزن کوٹ نے الکژام لگایا کہ وزیر اعظم سیکورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں اور لغو بہانے تراش رہے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے درجنوں انتباہات موصول ہوئے لیکن انہوں نے سب کو نظر انداز کر دیا،وہ (وزارتِ عظمیٰ کے لیے) نااہل ہیں،اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید ایک منٹ بھی اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-

دوسری جانب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں ہاآرتص کی رپورٹ کو "سراسر جھوٹ” قرار دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ایسی کوئی ٹیلی فونک گفتگو یا رابطہ نہیں ہوا تھا-

نیتن یاہو کی حکومت کئی برسوں سے حماس کے ساتھ ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت قطر کے ذریعے غزہ میں مالی معاونت کی فراہمی جاری رہی، جبکہ یہ مفروضہ برقرار رہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گی۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، اے ایف پی کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تخمینے کے مطا بق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس کے جنگجو تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے، جن میں سے 44 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

More posts