نئی دہلی: بھارتی خلائی پروگرام کو مہنگی لانچنگ، پے در پے ناکام تجربات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ترقیاتی دعووں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) کی کارکردگی، لانچنگ کے اخراجات اور مسلسل ناکامیوں نے ادارے کی صلاحیتوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں یورپی ماہرین کے حوالے سے بھارتی خلائی پروگرام میں بے جا اخراجات اور ناکام تجربات کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھارت کی خلائی لانچنگ کی لاگت تقریباً 13 ہزار 300 ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ گئی، جو عالمی اوسط 3 ہزار 868 ڈالر فی کلوگرام سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بلند اخراجات بھارتی خلائی پروگرام کی کارکردگی اور معاشی افادیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔بھارتی خلائی ادارے کو انسانی وسائل کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ چیلنجز کے باعث 100 سے زائد سائنسدان اسرو چھوڑ چکے ہیں، جس سے ادارے کی افرادی قوت اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرو کی 57 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر 105 راکٹ لانچ کیے گئے ہیں۔ پے در پے ناکام تجربات اور مہنگی لانچنگ کے باعث بھارت کے خلائی پروگرام کی کارکردگی پر عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اگر خلائی شعبے میں عالمی سطح پر مؤثر مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے لانچنگ کے اخراجات کم کرنے، تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے اور سائنسدانوں کو ادارے سے وابستہ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
