Baaghi TV

نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کرلیا،عباس عراقچی

america

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مفاد میں دھوکا دے کر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا۔

عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے ایک خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے عبرانی زبان میں گفتگو کے دوران خود اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے اسے ’بیوقوف بنایا‘، نیتن یاہو اس بات پر واضح طور پر ہنس رہے تھے کہ انہوں نے امریکی ٹی وی پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کا ایئر ٹائم حاصل کرکے امریکی رائے عامہ اور پالیسی پر کس طرح اثر ڈالانیتن یاہو کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی برس سے ایران کے معاملے پر امریکا کو اپنے مؤقف کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے ایران کے معاملے سے نمٹ رہے ہیں اور انہیں ایران کے خلاف کارروائی پر اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو آمادہ کرنے میں بہت وقت لگا، ایران کے خلاف کارروائی کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو قائل کرنا ایک طویل عمل تھا۔

عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے بیان کو اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کے لیے اثرانداز ہونے کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کی گفتگو میں امریکی حکومت کو ’بیوقوف بنانے‘ کے الفاظ شامل تھے یا نہیں، یہ بات عراقچی کی تشریح سے متعلق ہے۔

علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارک اور ابوموسیٰ پر راکٹ حملے کیے،امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات ایران کے دونوں جزائر کو HIMARS راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

عراقچی کے مطابق ایرانی فورسز نے حملوں کے لانچ پوائنٹس کا سراغ لگایا جن میں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب ایک مقام شامل تھا، اب یہ واضح ہے کہ راکٹ متحدہ عرب امارات سے فائر کیے گئے، اور پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنا بالکل ناقابل قبول ہے گنجان آباد علاقوں کے قریب سے راکٹ داغنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔

More posts