ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جہاز رانی کی مشکلات کم کرنے کے حوالے سے بات چیت بحال ہونے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 ڈالر فی بیرل سے زیادہ گر گئیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے،بدھ کو برینٹ خام تیل کے سودے 2.30 ڈالر یا 2.6 فیصد کمی کے بعد 86.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے، کاروبار کے دوران برینٹ کی قیمت 13 اگست کے بعد کم ترین سطح تک بھی پہنچی،امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈ یٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.08 ڈالر یا 2.53 فیصد کم ہو کر 80.29 ڈالر فی بیرل رہی، ڈبلیو ٹی آئی بھی دورانِ کاروبار 10 اگست کے بعد کم ترین سطح پر آگیا، دونوں اہم بینچ مارکس کی قیمتوں میں منگل کو بھی 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع کردیئے ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے وقفے وقفے سے بات چیت جاری ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
ایران اور عمان نے گزشتہ روز بتایا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت کے لیے’مشترکہ عارضی بحری راہداری‘کے معاملے پر بات کی اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر بھی اتفاق کیا۔تاہم مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اب بھی معمول سے کم ہے۔
