امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد امریکی صارفین کو ایندھن کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافے کا سامنا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس ہفتے نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث تیل اور ایندھن کی عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک سیاسی امتحان بھی بن سکتی ہے۔
ایوان صدر میں یتیم بچوں کے اعزاز میں افطار ڈنر
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو ایک ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے اور ستمبر 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے، اسی طرح ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 4.33 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جو ایک ہفتے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد نومبر 2023 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکا کے مڈویسٹ اور جنوبی ریاستوں میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریاست جارجیا میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 40 سینٹ فی گیلن اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انڈیانا اور ویسٹ ورجینیا میں بھی قیمتوں میں 40 سینٹ سے زائد اضافہ ہوا۔
سعودی عرب:سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے قرآنِ کریم حفظ مقابلے کا اعلان
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں اور سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.50 سے 3.70 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے جمعہ کو امریکی تیل کے سودے 90.90 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو کئی برسوں میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے باعث امریکی تیل کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے مقامی سطح پر بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات خوراک، اشیائے ضروریہ اور عالمی تجارت سمیت مختلف شعبوں پر پڑتے ہیں کیونکہ ڈیزل بنیادی طور پر مال برداری، صنعت اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھانا پڑی، عطا تارڑ
