ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیجی کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کے حوالے سے یورپی ملک میں ایک تقریب منعقد ہونے کا عندیہ دیا جا چکا ہے اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس یادداشت کو پاکستان کے کردار کی مناسبت سے "اسلام آباد ڈکلیریشن” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک "شان دار تصفیے” پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور توقع ہے کہ دستخط چند دنوں کے اندر ہو جائیں گے۔
ٹرمپ نے جمعرات کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک شان دار تصفیے تک پہنچ چکے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے نائب جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معاہدے کے حوالے سے خطے کے رہنماؤں بشمول اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو با ضابطہ طور پر کھول دیا جائے گایہ معاہدہ ممکنہ طور پر بہت جلد، شاید یورپ میں اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے د ی ہےجس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم ہو جائے گا، جب وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے پو چھا کہ کیا خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔
ٹرمپ نے معاہدے کو ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یاد داشت” قرار دیا اور کہا کہ یہ کچھ حد تک ابتدائی نوعیت کی ہے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مکمل کر لیا جائے گا۔
