ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر جنرل محمد رضا نقدی نے ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل بدستور موجود اور محفوظ ہیں۔
الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد رضا نقدی نے جنگ کے بعد ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مراکز کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا، انہیں نئے اور نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرکے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے،اور ہ جو میزائل کم ہوئے وہ جنگ کے دوران داغے گئے تھے اور ان کی جگہ نئے میزائل حاصل کر لیے گئے ہیں،جبکہ ایران کا میزائل بنانے کا نظام خود کفیل اور طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر دفاعی پیداوار کی رفتار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے ان کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوران فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی پیداواری صلاحیت بحال کر نے میں تیزی دکھائی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ برقرار ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔
محمد رضا نقدی کے مطابق ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات، بلکہ ملک کے لیے ایسی قوت قائم کرنا ہے جس کے باعث کسی بھی مخالف کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے کئی مرتبہ سوچنا پڑے،ایران کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جاسکےمضبوط دفاعی بازدار قوت خطے میں مستقبل کے تنازعات کے امکانات کم کرسکتی ہے۔
انہوں نے امریکا کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے مفاد میں یہ نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور بڑے فوجی تنازع میں داخل ہو۔ ان کے مطابق کسی نئے بڑے تنازع کے نتیجے میں امریکا کو بھی بھاری سیاسی، فوجی اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
تاہم ایرانی عہدیدار کی جانب سے فوجی مراکز کی بحالی اور پیداوار میں اضافے سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں،امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں ایران کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ تاہم مسلسل ایرانی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے اہم ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔
