قصور تا ملتان نان سٹاپ بس سروس مبینہ طور پر لوکل روٹ پر چلنے لگی، مسافروں سے زائد کرایہ وصولی کا الزام
تفصیلات کے مطابق قصور سے ملتان کے درمیان چلنے والی نان سٹاپ بس سروس کے حوالے سے شہریوں نے مبینہ طور پر زائد کرایہ وصول کرنے اور نان سٹاپ بسوں کو لوکل بسوں کی طرز پر چلانے کی شکایات کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
شہریوں کے مطابق قصور سے روانگی کے بعد مذکورہ نان سٹاپ بسیں راستے میں آنے والے مختلف چھوٹے بڑے سٹاپس سے سواریاں بٹھاتی ہیں تاہم ان مسافروں سے بھی نان سٹاپ بس کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ نان سٹاپ بس کو لوکل روٹ پر چلایا جاتا ہے جبکہ کرایہ نان سٹاپ سروس کا وصول کیا جاتا ہے
شکایت کنندگان کے مطابق قصور سے ملتان کا نان سٹاپ کرایہ 2400 روپے جبکہ قصور سے دیپالپور کا کرایہ 500 روپے فی مسافر وصول کیا جا رہا ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ بس میں آویزاں کرایہ نامہ میں راستے کے مختلف انٹرمیڈیٹ سٹاپس کے کرائے درج نہیں کیے گئے جس کے باعث مسافروں کو کرائے کے معاملے میں مشکلات کا سامنا ہے
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اوقات راستے کے سٹاپس سے سوار ہونے والے مسافروں کو ٹکٹ بھی فراہم نہیں کیا جاتا جس کے باعث وصول کیے جانے والے کرائے کا باقاعدہ ریکارڈ بھی موجود نہیں رہتا
شہریوں کے مطابق اس صورتحال کا فوری تدارک ضروری ہے تاکہ مسافروں کو مبینہ زائد کرایوں اور غیر شفاف وصولیوں سے تحفظ مل سکے
متاثرہ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قصور تا ملتان چلنے والی مذکورہ بس سروس کے روٹ پرمٹ، مقررہ سٹاپس، کرایہ نامہ اور ٹکٹ جاری کرنے کے طریقہ کار کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر شکایات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار بس مالکان، ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور نان سٹاپ بسوں کو غیر مقررہ سٹاپس سے سواریاں بٹھانے سے روکا جائے تاکہ مسافروں سے مقررہ اور شفاف کرایہ ہی وصول کیا جا سکے
