محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی اور خطہ پوٹھوہار میں 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت گرد و نواح میں رات گئے موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،محکمہ موسمیات کے مطابق مسلسل اور تیز بارشوں کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی تک محدود نہیں رہے گا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 6 ستمبر تک جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جن میں راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں۔
پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے
ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نشیبی علاقوں کی نگرانی، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں پہاڑی اور سیاحتی علاقوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو بھی موسم کی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ملک میں جاری مون سون کے شدید اسپیل اور غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقہ جات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور طغیانی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے-
امریکا کی ٹاپ پارٹی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری، نیویارک کی صرف دو جامعات شامل
این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور کھرمنگ اور آزاد کشمیر میں وادی نیلم اور گردو نواح کے ندی نالوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے،علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے پہاڑی علاقوں کو بھی حساس قرار دیا گیا، ان علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔
گلگت بلتستان، سوات اور مری جانے والے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر سے قبل مقامی انتظامیہ یا این ڈی ایم اے ہیلپ لائن (1129) سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں، بھاری مشینری اور ہنگامی ادویات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ سڑکیں بلاک ہونے کی صورت میں فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے، تابکار حرارت اور شدید بارشوں کا ایک ساتھ ملنا پہاڑی جھیلوں کے بند توڑنے کا باعث بنتا ہے، جس سے چند منٹوں میں لاکھوں کیوسک پانی نچلے علاقوں کی طرف بہتا ہے۔
نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی
